Saturday, 31 May 2014

خاموش دہانے

کارگل محاذ پہ پاکستانی توپخانہ کی کارکردگی بہت اہمیت کی حامل تھی۔ عددی برتری نہ ہونے کے باوجود ہمارے توپخانے اور توپچیوں نے صلاحیت سے بڑھ کر، جنون کی حد تک ایل او سی پار لڑتے جوانوں کی مدد کی۔



 جنگی اصولوں کے مطابق کسی بھی حملہ کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب حملہ آور دشمن کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہو، لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ تھا۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے یہ ریشیو ۱:۱۔۳ تھا، جبکہ جنگ چھڑنے کے بعد یہ ریشیو بھارت کے حق میں ۱:۱۔۲۶ ہوگیا۔

کارگل جنگ چٹیل میدانوں نہیں، سنگلاخ برف پوش پہاڑوں پہ لڑی جانے والی جنگ تھی، اور سب سے مشکل کام بھاری بھرکم توپوں کو یہاں لانا تھا۔ اونچائیوں پہ توپوں کو لے جانے کا یہ کام ایم آئی ۱۷ ہیلی کاپٹروں کو سونپا گیا۔ تکنیک یہ اپنائی گئی کہ توپوں کو پرزوں میں کھول دیا گیا، اور پھر انھیں سلنگ لوڈ کی مدد سے کارگل کے اہم محاذوں، یعنی داود ٹیکٹیکل سینٹر، گلتری، فارن شاٹ اور کنار نالہ لے جایا گیا۔



۱۳۰ ایم ایم کی توپ سب سے بھاری تھی۔ اس توپ کا ایک بیرل ہی کوئی دو ہزار کلو وزنی تھا، جبکہ صرف ایک ٹائر ۴۵۰ کلو کا۔ اس طرح ایک ۱۳۰ ایم ایم توپ کو پوزیشن تک لے جانے میں ایک ایم آئی ۱۷ کے آٹھ چکر لگے۔ اس طرح جو پروازیں یہ ہیلی کاپٹر دو سال میں کرتا، وہ تین مہینے میں ہی کرلیں۔

اب بات کرتے ہیں محاذ جنگ کی۔
بیٹل فیلڈ میں اکسٹھ گن پوزیشنیں قائم کی گئیں اور فائر کنٹرول کرنے کے لیئے ۴۴ مشاہداتی چوکیاں قائم کی گئیں۔ لیکن یہ سب کافی نہیں تھا۔ ان توپوں کی مرمت کا بھی کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا گیا تھا۔ آرمی ورکشاپ ۵۰۲ سے مکینک منگوائے گئے تھے، لیکن ضروری سامان کے بغیر۔ اوپر سے سردی کا موسم، جس میں اسلحہ جام یا خراب ہونے کے خطرہ عام موسم کے مقابلے زیادہ ہوتا ہے۔ جنگ کے دوران جو توپ بھی خراب ہوجاتی، پھر وہ خاموشی سے ایل او سی پار اپنی پوسٹوں اور ان میں تعینات اپنے سپاہیوں کو بربادی کا ساماں ہوتے دیکھتی رہتی۔ یعنی ایک بار جو دہانہ خاموش ہوا، پھر وہ خاموش ہی رہا۔

شمالی علاقوں میں پاکستان کی بھارت پر توپخانہ کے معاملہ پر عددی برتری نہیں تھی۔ یہ حقیقت جاننے کے باوجود ایف سی این اے یعنی فورس کمانڈ ناردرن ایریاز نے بغیر اضافی آرٹلری منگوائے ایل او سی کے پار جنگ چھیڑ دی۔ ہمارے پاس جو توپیں تھیں، جن میں اکثریت فیلڈ گنز کی تھی، ان میں اتنی سکت ہی نہیں تھی کہ وہ اونچائیوں تک شعلے اگل سکیں۔ جنگ چھڑنے کے بعد بھارتی توپوں نے پاکستان کی قبضہ کردہ چیک پوسٹوں کو بری طرح نقصان پہنچایا، اور جب جوابی کاروائی کے لیئے ہمارے فوجی اپنے توپخانے کی طرف دیکھتے، تو توپخانے، نیچے کی طرف دیکھتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور اب بات کرتے ہیں تابوت میں آخری کیل، بوفور گنز کی



بھارت اونچائیوں پہ اپنی بہترین بوفور توپیں چڑھا لے آیا ۔۔ اور اسی توپ نے بھارت کی برتری کو مزید مستحکم کردیا۔ اونچائی والے علاقوں میں پینتیس کلومیٹر تک مار کرنے والی ان ایف ایچ ۷۷ بوفور توپوں نے ہر بارہ سیکنڈ پہ تین گولے داغ کر پاکستانی چیک پوسٹوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

کیوں نہ اس موقع پہ پاک بھارت توپخانوں کا ایک تقابلی جائزہ لیا جائے ۔۔۔


جنگ سے پہلے
نسبت
بھارت
پاکستان
توپ کی قسم
۱:۱۔۷۵
۹۳
۵۳
فیلڈ گن
۱:۱۔۲
۶۳
۵۱
مارٹر
۱:۱۔۲
۵۴*
۴۵
میڈیم گن
۷:۰
۰
۷
فور بیرل راکٹ لانچر
۱:۱۔۳
۲۱۰
۱۵۶
کل تعداد
*ان میں بھارت کی بہترین بوفور گنز شامل تھیں
  
جنگ چھڑنے کے بعد
RATIO
بھارت
پاکستان
اسلحہ کی قسم
۱:۳٫۰۴
۱۸۶
۶۱
فیلڈ گن
۱:۱٫۳۰۲
۷۸
۵۹
مارٹر
۱:۲،۴۹
۱۹۲*
۷۷
میڈیم گن
۷:۰
۰
۷
فور بیرل راکٹ لانچر
۹:۰
۰
۹
سنگل بیرل راکٹ لانچر
۰:۶
۶
۰
ملٹی بیرل راکٹ لانچر
۱:۲،۱۶
۴۶۲
۲۱۳
کل تعداد
*۱۶۲ بوفور گنز
یہ تقابل، اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ جاتے ہیں۔

 جب یہ بات معلوم تھی کہ شمالی علاقوں میں پاکستانی توپخانہ کو بھارت پہ عددی برتری نہیں تھی، تو پھر جنگ چھیڑنے

 سے قبل، اور فوجیوں کو ایل او سی پار بھیجنے سے پہلے مزید کمک کیوں نہیں منگوائی گئی؟


 یہ بات بھی طہ شدہ تھی کہ ہماری زیادہ تر توپیں اتنی اونچائی میں کارگر ثابت نہیں ہوں گی، پھر بھی ایف سی این اے کے کمانڈر میجر جنرل جاوید حسن نے اس محاذ کو کھولنے کے لیئے جنرل مشرف پہ دباو کیوں ڈالا؟


 یاد رہے کہ یہ وہ ہی میجر جنرل جاوید حسن ہیں جنھوں نے پوری کارگل مہم جوئی کو پلان کیا تھا۔  اور کیا شاندار پلان کیا تھا ۔۔۔۔



 کیا کبھی ہم بحیثیت پاکستانی قوم، میجر جنرل جاوید حسن سے اس خراب پلان کا احتساب کرسکیں گے؟ جواب لے سکیں گے؟

Saturday, 17 May 2014

کارگل کی منہ دکھائی ۔۔ حکومت بھی لاعلم، بے خبر رہی آئی ایس آئی

اور بالآخر فوج نے حکومت کو کارگل کے بارے میں بتا ہی دیا ۔۔۔ لیکن تھوڑا تھوڑا

۱۷ مئی ۱۹۹۹ کو بروز اتوار انٹر سروسز انٹیلیجنس کے اوجڑی کیمپ کے دفاتر میں یہ بریفنگ منعقد کی گئی۔ اور یہ اب بھی کیوں بتانے کی ضرورت پیش آئی، اس کو فوج کی بدقسمتی کہہ لیں یا حکومت کی خوش قسمتی۔

ہوا یوں کہ پانچ مئی ۹۹ کو سیکرٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل ر افتخار علی خان کی نظر ایک غیر ملکی رسالہ پہ پڑی جس نے دنیا کے بلند ترین جنگی محاذ پہ پاک بھارت جھڑپوں کو رپورٹ کیا تھا۔ جنرل افتخار نے ڈی جی ایم او میجر جنرل تقیر ضیا کو فون کرکے اس بارے میں سوال کیا تو جواب ملا
کچھ نہیں جناب ۔۔ معمول کی کاروائی ہے

اور ابھی جنرل افتخار اس غیر معمولی معمول کی تفتیش کر ہی رہے تھے کہ بھارتی وزیر اعظم واجپائی نے نواز شریف کو
 فون کر کے کہا کہ
آپ نے تو ہماری پیٹھ پہ چھرا گھونپ دیا ۔۔

 واجپائی نے یہ کیوں کہا؟

آپ کو یاد ہوگا کہ ان دنوں پاک بھارت تعلقات زوروں پہ تھے، بس سروس، قیدیوں کی رہائی اور کشمیر کے حوالے سے بھارتی وزیر اعظم کے بیانات بہت مثبت تھے۔ لیکن کارگل مہم جوئی نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔

واجپائی کے فون کے دو دن بعد بالآخر فوج نے حکومت کو بریف کرنے کے لیئے آئی ایس آئی کے اوجڑی کیمپ بلا ہی لیا۔

حکومت کی طرف سے نواز شریف، سیکرٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل ر افتخار علی خان، وزیر خارجہ سرتاج عزیز، وفاقی وزیر لیفٹننٹ جنرل ر مجید ملک، سیکرٹری برائے امور خارجہ مسٹر شمشاد احمد خان، اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی موجود تھے



فوج کی جانب سے، چیف آف آرمی اسٹاف کیساتھ چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹننٹ جنرل عزیز خان، دسویں کور کے کمانڈنٹ لیفٹننٹ جنرل محمود احمد، ڈی جی ایم او میجر جنرل توقیر ضیا، کمانڈر ایف سی این اے میجر جنرل جاوید حسن اور آئی ایس آئی سے میجر جنرل جمشید گلزار موجود تھے



ڈی جی ایم او نے بریفنگ دی، اور ایسی دی جیسے ہم جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی فاتح ہوگئے ہیں
دعوی کیا گیا کہ پاک فوج نے علاقے کی اہم چوٹیوں پر قبضہ کرلیا ہے، اور بھارتی افواج عددی برتری کے باوجود یہ چوٹیاں
 اور چیک پوسٹ واپس لے ہی نہیں سکتیں۔ بیشک ہم نے بھارت کو سرپرائز کردیا ہے


مزے کی بات یہ ہے کہ حکومت کو یہ بریفنگ، کارگل کاروائی شروع کیئے جانے کے کچھ چھ ماہ بعد بتائی گئی۔ یعنی کارگل 
کے لیئے پہلی ریکی کیپٹن ندیم ملک اور حوالدار لالک جان نے ۱۸ دسمبر ۱۹۹۸ کو کی تھی، اور حکومت کو بریف کیا گیا ۱۷ مئی ۱۹۹۹ کو۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ابھی تک فضائیہ اور بحریہ اس مہم جوئی سے بہرہ مند نہیں کیئے گئے تھے۔