Saturday, 17 May 2014

کارگل کی منہ دکھائی ۔۔ حکومت بھی لاعلم، بے خبر رہی آئی ایس آئی

اور بالآخر فوج نے حکومت کو کارگل کے بارے میں بتا ہی دیا ۔۔۔ لیکن تھوڑا تھوڑا

۱۷ مئی ۱۹۹۹ کو بروز اتوار انٹر سروسز انٹیلیجنس کے اوجڑی کیمپ کے دفاتر میں یہ بریفنگ منعقد کی گئی۔ اور یہ اب بھی کیوں بتانے کی ضرورت پیش آئی، اس کو فوج کی بدقسمتی کہہ لیں یا حکومت کی خوش قسمتی۔

ہوا یوں کہ پانچ مئی ۹۹ کو سیکرٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل ر افتخار علی خان کی نظر ایک غیر ملکی رسالہ پہ پڑی جس نے دنیا کے بلند ترین جنگی محاذ پہ پاک بھارت جھڑپوں کو رپورٹ کیا تھا۔ جنرل افتخار نے ڈی جی ایم او میجر جنرل تقیر ضیا کو فون کرکے اس بارے میں سوال کیا تو جواب ملا
کچھ نہیں جناب ۔۔ معمول کی کاروائی ہے

اور ابھی جنرل افتخار اس غیر معمولی معمول کی تفتیش کر ہی رہے تھے کہ بھارتی وزیر اعظم واجپائی نے نواز شریف کو
 فون کر کے کہا کہ
آپ نے تو ہماری پیٹھ پہ چھرا گھونپ دیا ۔۔

 واجپائی نے یہ کیوں کہا؟

آپ کو یاد ہوگا کہ ان دنوں پاک بھارت تعلقات زوروں پہ تھے، بس سروس، قیدیوں کی رہائی اور کشمیر کے حوالے سے بھارتی وزیر اعظم کے بیانات بہت مثبت تھے۔ لیکن کارگل مہم جوئی نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔

واجپائی کے فون کے دو دن بعد بالآخر فوج نے حکومت کو بریف کرنے کے لیئے آئی ایس آئی کے اوجڑی کیمپ بلا ہی لیا۔

حکومت کی طرف سے نواز شریف، سیکرٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل ر افتخار علی خان، وزیر خارجہ سرتاج عزیز، وفاقی وزیر لیفٹننٹ جنرل ر مجید ملک، سیکرٹری برائے امور خارجہ مسٹر شمشاد احمد خان، اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی موجود تھے



فوج کی جانب سے، چیف آف آرمی اسٹاف کیساتھ چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹننٹ جنرل عزیز خان، دسویں کور کے کمانڈنٹ لیفٹننٹ جنرل محمود احمد، ڈی جی ایم او میجر جنرل توقیر ضیا، کمانڈر ایف سی این اے میجر جنرل جاوید حسن اور آئی ایس آئی سے میجر جنرل جمشید گلزار موجود تھے



ڈی جی ایم او نے بریفنگ دی، اور ایسی دی جیسے ہم جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی فاتح ہوگئے ہیں
دعوی کیا گیا کہ پاک فوج نے علاقے کی اہم چوٹیوں پر قبضہ کرلیا ہے، اور بھارتی افواج عددی برتری کے باوجود یہ چوٹیاں
 اور چیک پوسٹ واپس لے ہی نہیں سکتیں۔ بیشک ہم نے بھارت کو سرپرائز کردیا ہے


مزے کی بات یہ ہے کہ حکومت کو یہ بریفنگ، کارگل کاروائی شروع کیئے جانے کے کچھ چھ ماہ بعد بتائی گئی۔ یعنی کارگل 
کے لیئے پہلی ریکی کیپٹن ندیم ملک اور حوالدار لالک جان نے ۱۸ دسمبر ۱۹۹۸ کو کی تھی، اور حکومت کو بریف کیا گیا ۱۷ مئی ۱۹۹۹ کو۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ابھی تک فضائیہ اور بحریہ اس مہم جوئی سے بہرہ مند نہیں کیئے گئے تھے۔

No comments:

Post a Comment